Wednesday, December 11, 2013

آئے ہے امن اس کے پرچار سے

خوشبوئوں کے ملاپ سے، موسمِ بہار سے
آئے ہے امن،       اس کے پرچار سے
کھلتے       ہیں        گلُ،         گلاب       کے
صرف   اکِ    دوسرے     کے    پیار    سے
آ ئے ہے امن، اس کے پرچار سے
پہلے زمانے عزتوں سے سرشار تھے
چھوٹوں کے ادب، بڑوں کے پیار سے
آئے ہے امن، اس کے پرچار سے
حق ہو ہر سوُ، صیحح حقداروں کے
ادائیگیِ فرا ئض ہوں، فرض کے احساس سے
آئے ہے امن، اس کے پرچار سے
رشوت کی طلب نہ انعامات کی بھرمار ہو
ہے سکونِ قلب، اس ناسور کے اجتناب سے
آئے ہے امن، اس کے پرچار سے
شہرت اچھی نہ دولت مفید  ہے
ہے زندگی گلزار، سادگی کے اختیار سے
آئے ہے امن، اس کے پرچار سے
بٰغض ہو نہ کینہ، نہ حسد کا امبار ہو
آیا ہے یہی سبق قرآں سے
آئے ہے امن، اس کے پرچار سے
قیمتی ہو جاں، برابر ہراِک انساں کی
بخش دے خطائیں سب کی، دعاہے رب سے
آئے ہے امن، اس کے پرچار سے

(حسن)

No comments:

Post a Comment